Sunday, May 4, 2025

میرےعزیز پاکستانیو! کھوتے بچالو!


گوشت ملا نا ہی وصال کھال ہوا۔۔۔چین کا گلہ!



 اس وقت عجیب سی کشمکش کا سامنا کرنا پڑا جب ایک دوست کی طرف سے کھانے کی دعوت ملی ۔ سوچا جاؤں ، نا جاؤں؟  آپ بھی کہیں گے اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔ یہ دعوت ٹھکرانے کا کون سا زمانہ ہے اور وہ بھی دوست کی دعوت۔ لیکن عجیب سی  کیفیت تھی ۔ یہاں دل اوردماغ میں نہیں دل اور پیٹ میں جنگ جاری تھی۔  پیٹ کہتا تھا کہ اُڑ کے چلا جاؤں لیکن دل تھا  کہ مانتا ہی نہیں تھا۔ آنکھیں بند کرکے ، یکسو ہوکر دل کو سمجھانے کی کوشش کی تو  آنکھوں کے آگے گدھے آگئے۔ جیتے جاگتے گدھے معذرت کے ساتھ محاورہ تو تارے آنے کا ہے۔ مگر جب سے یہ خبر پڑھی  کہ کراچی سے گدھے کی 14ٹن وزنی کھالیں چین اسمگل کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔


میرا دل ڈوبا جاتا تھا۔ کانوں میں بھی ڈھینچوں ڈھینچوں کا شور سنائی دیتا تھا۔ جتنا دباتا  وسوسے اُتنے ہی منہ زور پاتا ۔ لاکھ سمجھاتا کہ گدھوں کی کھالیں کراچی میں پکڑی گئیں۔ میری دعوت تو لاہور میں ہے۔ دل کے اندر سے، جی بہت اندر سے یہ آواز آئی کہ  14ٹن توگدھے کی کھالوں کا وزن ہے۔ اس کے حساب سے گوشت توپھرٹنا ٹن ہوگا۔کہیں قورمہ کہیں زینتِ متنجن ہوگا۔ 

 پیٹ دلیل دیتا  لاہوروالوں کو کیا ڈر؟ کہ  کراچی والوں نے کھوتاکڑاہی، گدھا تکہ، کھوتا گولہ کباب ، گدھا نہاری اور کھوتا اسٹیک  کی صورت سب اُڑا دیاہوگا۔ لیکن دل یہ دلیل مانتا ہی نہیں، اُس کی باتوں میں بھی وزن تھا کہ کراچی سے ملنےوالی گدھے کی کھالوں پر یہ تھوڑی لکھا ہے کہ یہ کھالیں صرف کراچی کے گدھوں کی ہیں۔ کس کس شہر میں گدھے کی قربانی ہوئی کیا خبر؟ کہاں کہاں سے کھال کراچی پہنچی، تُو کیا جانے؟

گوشت مقامی پیٹوؤں نے ٹھکانے لگایا یا پھر قصابوں نے صاحب لوگوں کے گھر تک پہنچایا اور ان صاحبوں میں تیرا دوست شامل نہیں۔ تجھے کیوں یقین ہے ۔ اور اگر شامل ہے تواس سے تصدیق پھر بھی کیوں کر ممکن اسےکیاپتہ وہ مٹن سمجھ کرجسے لایا ہو۔  قصاب نے چھوٹی بوٹی کرکے اسے یہی گوشت تھمایا ہو۔ ہائے ہائےبڑی مصیبت تھی ایک طرف بھوک  اور دوسری طرف شریعت تھی

پیٹ نے طعنےمارے مصیبت میں گدھےکوفوراً باپ بنالیتے ہواور بھوک میں اسی گدھے کےگوشت کےتصور سے منہ بنالیتے ہو 

دوسرا اپنے چینی بھائیوں کا سوچا توغصہ اپنی خود غرضی پر بھی آیا۔  یہ خبر چینیوں کے سمع نازک پر کتنی گراں گزری ہوگی۔ جنہیں گوشت ملا نا ہی وصالِ کھال ہوا۔  کیسی کیسی آرزوئیں ہونگی جو چین میں ٹوٹی ہونگی۔ 

چین تو دور ہے پاکستان میں تو یہ قضیہ حل ہونا چاہئے۔

 گدھےکی کھالیں کس نے اڑائیں یہ توسرکاری  کاغذوں سے پتہ چل جائےگا۔ مسئلہ تو گوشت کا ہے اس کا کھوج کیسے لگایا جائےگاکہ یہ فریج کی زینت بنا ۔ کسی گھریلو دعوت کسی ہوٹل کے بوفے کی میز پر سجا  یا پھر پتھر ہضم لکڑ ہضم پیٹ کےبوسےلے کرانجام کو پہنچا۔ سارے وسوسے سارے اندیشے ایک طرف رکھ کے میں نے پیٹ کی مانی اور دعوت اُڑا لی ہے۔ کیا مزے کی دعوت تھی۔ کیا مزے مزے کے پکوان تھے۔ دیسی مرغ بھی تھی برائیلر تکے بھی لیکن مٹن کےتو ششکے ہی الگ تھے۔ دعا ہے یہ مٹن متن کےحساب سے مٹن ہی ہو۔ ورنہ اسے کھا کر کس کس کا دولتی جھاڑنے کو من کیا۔ کسے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز موسیقی کی دنیا کا آٹھواں سُر لگا۔ اپنا اور دوسروں کا  احوال یارانِ دعوتاں سے ملاقاتاں کےبعد عرض کرونگا اُس وقت تک آپ بھی کھوج لگائیے کہ کھال تو مل گئی کھال کے اندر کا مال کہاں گیا؟


No comments:

Post a Comment