گوشت ملا نا ہی وصال کھال ہوا۔۔۔چین کا گلہ!
گوشت مقامی پیٹوؤں نے ٹھکانے لگایا یا پھر قصابوں نے صاحب لوگوں کے گھر تک پہنچایا اور ان صاحبوں میں تیرا دوست شامل نہیں۔ تجھے کیوں یقین ہے ۔ اور اگر شامل ہے تواس سے تصدیق پھر بھی کیوں کر ممکن اسےکیاپتہ وہ مٹن سمجھ کرجسے لایا ہو۔ قصاب نے چھوٹی بوٹی کرکے اسے یہی گوشت تھمایا ہو۔ ہائے ہائےبڑی مصیبت تھی ایک طرف بھوک اور دوسری طرف شریعت تھی
پیٹ نے طعنےمارے مصیبت میں گدھےکوفوراً باپ بنالیتے ہواور بھوک میں اسی گدھے کےگوشت کےتصور سے منہ بنالیتے ہو
دوسرا اپنے چینی بھائیوں کا سوچا توغصہ اپنی خود غرضی پر بھی آیا۔ یہ خبر چینیوں کے سمع نازک پر کتنی گراں گزری ہوگی۔ جنہیں گوشت ملا نا ہی وصالِ کھال ہوا۔ کیسی کیسی آرزوئیں ہونگی جو چین میں ٹوٹی ہونگی۔
چین تو دور ہے پاکستان میں تو یہ قضیہ حل ہونا چاہئے۔
گدھےکی کھالیں کس نے اڑائیں یہ توسرکاری کاغذوں سے پتہ چل جائےگا۔ مسئلہ تو گوشت کا ہے اس کا کھوج کیسے لگایا جائےگاکہ یہ فریج کی زینت بنا ۔ کسی گھریلو دعوت کسی ہوٹل کے بوفے کی میز پر سجا یا پھر پتھر ہضم لکڑ ہضم پیٹ کےبوسےلے کرانجام کو پہنچا۔ سارے وسوسے سارے اندیشے ایک طرف رکھ کے میں نے پیٹ کی مانی اور دعوت اُڑا لی ہے۔ کیا مزے کی دعوت تھی۔ کیا مزے مزے کے پکوان تھے۔ دیسی مرغ بھی تھی برائیلر تکے بھی لیکن مٹن کےتو ششکے ہی الگ تھے۔ دعا ہے یہ مٹن متن کےحساب سے مٹن ہی ہو۔ ورنہ اسے کھا کر کس کس کا دولتی جھاڑنے کو من کیا۔ کسے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز موسیقی کی دنیا کا آٹھواں سُر لگا۔ اپنا اور دوسروں کا احوال یارانِ دعوتاں سے ملاقاتاں کےبعد عرض کرونگا اُس وقت تک آپ بھی کھوج لگائیے کہ کھال تو مل گئی کھال کے اندر کا مال کہاں گیا؟
No comments:
Post a Comment