Monday, August 11, 2025

اسکول سب خرابیوں کی جڑ

 دکانوں پرگیم کھیلتے بچے اچھے لگتے ہیں

گلیوں میں آوارہ گردی کرتےاچھےلگتےہیں

قوم کا مستقبل اسکول کیوں پڑھنےجائے؟

حکمرانوں کو یہ سوچ کےجھٹکےلگتےہیں

استاد کےلئےدھمکیاں،ہتھکڑیاں گرفتاریاں

کھولیں جو درسگاہیں تو چھاپے لگتےہیں


جن کازورچلتاہےبس اسکول بند کرانے پر

پاکستان میں وہی تعلیم کےمامےلگتےہیں


Saturday, June 28, 2025

ووٹ کو عزت دو

 

ووٹ سے کیا ہوتا ہے
ووٹ تو ایک دھوکہ ہے

کرسی پرپہلا حق اُس کا

بوٹ کا جودیوانہ ہوتا ہے


Wednesday, May 28, 2025

حکومت اور سکول


حکومت کو سکولوں کی بہت ہے فکر

بند کریں،نہیں نہیں کھولیں چکرپہ چکر 


سکول نہ ہوئے، ہوگئے کاکے کی نکر

اتارےجاتی ہےسرکارجتنا کریں ہم اوپر


سکول کھولیں تو چھاپے اور جرمانے

میرےشاہ کی ہےخواندگی پہ گہری نظر!


سکول کھولنےسےزیادہ بندش پرزورہے

سرکار اسے ہی سمجھتی ہے ترقی کا ہُنر

گرمی سردی ہوسموگ وبا یا دہشتگردی 

سکول ہی ٹھہرے سب سےزیادہ پُرخطر!


استاد تعلیم دیتےہیں شعور بانٹتےہیں

کھٹکتےہیں بن کر یہ آنکھ کا کنکر!

مثالیں لبوں پرامریکا و یورپ کی!
سہولت سکولوں کیلئےصفربٹا صفر


میں اُس دیس کاباسی ہوں میاں جہاں

فاضل رُلتےہیں،جاہل بنےہیں رہبر!

Sunday, May 4, 2025

میرےعزیز پاکستانیو! کھوتے بچالو!


گوشت ملا نا ہی وصال کھال ہوا۔۔۔چین کا گلہ!



 اس وقت عجیب سی کشمکش کا سامنا کرنا پڑا جب ایک دوست کی طرف سے کھانے کی دعوت ملی ۔ سوچا جاؤں ، نا جاؤں؟  آپ بھی کہیں گے اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔ یہ دعوت ٹھکرانے کا کون سا زمانہ ہے اور وہ بھی دوست کی دعوت۔ لیکن عجیب سی  کیفیت تھی ۔ یہاں دل اوردماغ میں نہیں دل اور پیٹ میں جنگ جاری تھی۔  پیٹ کہتا تھا کہ اُڑ کے چلا جاؤں لیکن دل تھا  کہ مانتا ہی نہیں تھا۔ آنکھیں بند کرکے ، یکسو ہوکر دل کو سمجھانے کی کوشش کی تو  آنکھوں کے آگے گدھے آگئے۔ جیتے جاگتے گدھے معذرت کے ساتھ محاورہ تو تارے آنے کا ہے۔ مگر جب سے یہ خبر پڑھی  کہ کراچی سے گدھے کی 14ٹن وزنی کھالیں چین اسمگل کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔


میرا دل ڈوبا جاتا تھا۔ کانوں میں بھی ڈھینچوں ڈھینچوں کا شور سنائی دیتا تھا۔ جتنا دباتا  وسوسے اُتنے ہی منہ زور پاتا ۔ لاکھ سمجھاتا کہ گدھوں کی کھالیں کراچی میں پکڑی گئیں۔ میری دعوت تو لاہور میں ہے۔ دل کے اندر سے، جی بہت اندر سے یہ آواز آئی کہ  14ٹن توگدھے کی کھالوں کا وزن ہے۔ اس کے حساب سے گوشت توپھرٹنا ٹن ہوگا۔کہیں قورمہ کہیں زینتِ متنجن ہوگا۔ 

 پیٹ دلیل دیتا  لاہوروالوں کو کیا ڈر؟ کہ  کراچی والوں نے کھوتاکڑاہی، گدھا تکہ، کھوتا گولہ کباب ، گدھا نہاری اور کھوتا اسٹیک  کی صورت سب اُڑا دیاہوگا۔ لیکن دل یہ دلیل مانتا ہی نہیں، اُس کی باتوں میں بھی وزن تھا کہ کراچی سے ملنےوالی گدھے کی کھالوں پر یہ تھوڑی لکھا ہے کہ یہ کھالیں صرف کراچی کے گدھوں کی ہیں۔ کس کس شہر میں گدھے کی قربانی ہوئی کیا خبر؟ کہاں کہاں سے کھال کراچی پہنچی، تُو کیا جانے؟

گوشت مقامی پیٹوؤں نے ٹھکانے لگایا یا پھر قصابوں نے صاحب لوگوں کے گھر تک پہنچایا اور ان صاحبوں میں تیرا دوست شامل نہیں۔ تجھے کیوں یقین ہے ۔ اور اگر شامل ہے تواس سے تصدیق پھر بھی کیوں کر ممکن اسےکیاپتہ وہ مٹن سمجھ کرجسے لایا ہو۔  قصاب نے چھوٹی بوٹی کرکے اسے یہی گوشت تھمایا ہو۔ ہائے ہائےبڑی مصیبت تھی ایک طرف بھوک  اور دوسری طرف شریعت تھی

پیٹ نے طعنےمارے مصیبت میں گدھےکوفوراً باپ بنالیتے ہواور بھوک میں اسی گدھے کےگوشت کےتصور سے منہ بنالیتے ہو 

دوسرا اپنے چینی بھائیوں کا سوچا توغصہ اپنی خود غرضی پر بھی آیا۔  یہ خبر چینیوں کے سمع نازک پر کتنی گراں گزری ہوگی۔ جنہیں گوشت ملا نا ہی وصالِ کھال ہوا۔  کیسی کیسی آرزوئیں ہونگی جو چین میں ٹوٹی ہونگی۔ 

چین تو دور ہے پاکستان میں تو یہ قضیہ حل ہونا چاہئے۔

 گدھےکی کھالیں کس نے اڑائیں یہ توسرکاری  کاغذوں سے پتہ چل جائےگا۔ مسئلہ تو گوشت کا ہے اس کا کھوج کیسے لگایا جائےگاکہ یہ فریج کی زینت بنا ۔ کسی گھریلو دعوت کسی ہوٹل کے بوفے کی میز پر سجا  یا پھر پتھر ہضم لکڑ ہضم پیٹ کےبوسےلے کرانجام کو پہنچا۔ سارے وسوسے سارے اندیشے ایک طرف رکھ کے میں نے پیٹ کی مانی اور دعوت اُڑا لی ہے۔ کیا مزے کی دعوت تھی۔ کیا مزے مزے کے پکوان تھے۔ دیسی مرغ بھی تھی برائیلر تکے بھی لیکن مٹن کےتو ششکے ہی الگ تھے۔ دعا ہے یہ مٹن متن کےحساب سے مٹن ہی ہو۔ ورنہ اسے کھا کر کس کس کا دولتی جھاڑنے کو من کیا۔ کسے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز موسیقی کی دنیا کا آٹھواں سُر لگا۔ اپنا اور دوسروں کا  احوال یارانِ دعوتاں سے ملاقاتاں کےبعد عرض کرونگا اُس وقت تک آپ بھی کھوج لگائیے کہ کھال تو مل گئی کھال کے اندر کا مال کہاں گیا؟


Tuesday, April 29, 2025

اک ننھی پری کا اللہ کے نام خط

میرے پیارے الله میاں……
میں تیرے نام لیوا علی اصغر بنگلزئی کی دس سالہ بچی ہوں جس نے اپنے باپ کا چہرہ صرف تصویر میں دیکھا ہے میں اپنی ماں کی کوکھ سے ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی کہ میرے باپ اپنے دوست کے ساتھ بازار سے گھر آتے ہوئے لاپتہ ہوگئے۔ میری بوڑھی ماں ، بھائی، چچا سمیت گھر کے تمام افراد کو علم نہیں کہ میرا باپ کہاں گیا ہے؟ ماں سے جب بھی سوال کرتی ہوں تو جواب میں ماں کی آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں جنہیں پونچھتے ہوئے میں ہمیشہ ماں سے وعدہ کرتی ہوں کہ پھر کبھی نہیں پوچھوں گی کہ ابا کہاں ہیں۔۔۔؟ یا کب آئیں گے؟۔
اللہ میاں۔۔۔۔ میرے بڑے تایا ابو پیشے کے لحاظ سے درزی ہیں وہ بتاتے ہیں کہ میرے ابو بھی درزی تھے لیکن ان کے ہاتھ کے سلے کپڑے میرے نصیب میں نہیں
تایا ابو سے جب پوچھتی ہوں کہ ابا کہاں ہیں اورکب آئیں گے۔۔۔۔؟ تو اپنی آنکھوں کے آنسوؤں پر ضبط کرتے ہوئے غصے سے بولتے ہیں کہ مجھے کپڑے سینے آتے ہیں اگر ہونٹ سینے کا ہنر جانتا تو میں تم سب کے ہونٹ سی دیتا تاکہ پھرکوئی یہ پوچھ کر میرے زخم تازہ نہ کرتا۔
اللہ میاں!میرے گھر والوں نے ابا کو کہاں کہاں تلاش نہیں کیا انصاف کیلئے ہر دروازے پر دستک دی میرے بڑے بھائی نے انصاف کے اداروں تک جا جا کر اپنی جوتیاں گھسا دیں اس نے ہمارے بہتر مستقبل کیلئے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی لیکن میں اچھی تعلیم نہیں ابا کا پیار مانگتی ہوں ابا کا جرم کیا ہے کسی کو کچھ علم نہیں لیکن سزا ہم سب بھگت رہے ہیں میرے گھر کی دیوار پر انگور کی لپٹی بیل کی طرح غموں نے ہماری زندگی کو جکڑ رکھا ہے ہماری کوئی نہیں سنتا اس لئے میں آپ کو چٹھی لکھ رہی ہوں شاید آپ میرے اباکو واپس لاسکو کیوں کہ میں اتنا جانتی ہوں کہ آپ کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا کوئی بھی کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔
فقط آپ کی رحمت کی طلب گار
زرجان
بنت علی اصغر بنگلزئی
سریاب روڈ کوئٹہ بلوچستان

 حاکم ہیں بڑے فکرمند!


کہیں پھیل نا جائے شعور کا اجالا
کہیں جہل کا منہ نا ہوجائے کالا
حاکم ہیں بڑے فکر مند
سکول کردو بند، سکول کردوبند

کلام خودی

Wednesday, April 20, 2016

قصیدہ گوگلیہ!



دنیا کے کونے کونے میں ان کی  علمیت کی دھاک بیٹھی۔چشمانِ کرم ،چہار سو ئے عالم میں جاری  و ساری ہیں۔
علم  پر آں جناب کا قبض و تصرف  مشارق و مغارب  میں تسلیم و  سکہ بند ہے۔ان کے مریدین و عشاق   تو گنتی و شمار میں ہی نہیں۔بحر و بر، جبل و صحرا  ، ویرانہ و عالم میں  یوں پھیلےہیں جیسے آسمان پر ستارے ۔سارے مریدین حضرتِ والا کی فیوض و  برکات  سے ہر لمحہ ہرآن  بہرہ مند ہوتے ہیں۔آستانہ ِ عالیہ تک ہرکسی کی  نہ صرف رسائی ہے بلکہ  فیض رسانی کےلئے مشرق و مغرب  کی تمیز ہے ، نہ رنگ و نسل کا امتیاز،
غریب و امیر کا فرق نظر میں  ہے نہ علم و جہل    پراعتراض۔دن  رات  مدِ نظر ہے نہ جاگنے سونے سے کوئی غرض۔ادھر مشتاقانِ علم و عرفان کوئی  مدعا ،حضور کے گوش گزار نے کی سعی کرتے ہیں، لفظ ابھی ترتیب نہیں پاتے کہ غیب دانی  کے مظاہرکی  جلوہ نمائی  ہونے لگتی ہے۔
مطلوب و مقصود کیا ہوسکتا ہے،  ممکنات کا ایک انبارِ بلند  ازطرح ہمالا  سائل کے سامنے استرِ ریشم  کی طرح بچھا دیتے ہیں۔کسی پہیلی کا  جواب چاہیے یا سہیلی کے سراپا حسن کے جلوے،ایٹم بم بنانے کا فارمولہ   ہو یا  پالتو بلی کےلئے بہترین شیمپو کے انتخاب کا مرحلہ ،قسم قسم کا کھانا بنانے کے سلیقے  ہو ں یا پھر لڑکیاں پٹانے کے طریقے،فلمی ستاروں کی مصروفیات ہو پھر دینی ضروریات،تاریخی کہانیاں ہو ں یا پھر  جدت کی نشانیاں
بلکہ سچ کہوں تو ان کی ذاتِ مبارکہ ایسے ہے جیسے پیاسے کےلئے پانی اور بھوکے  کے لئے روٹی ،غرض ،تعلیم ،تفریح ، ریسرچ،  تشریح، سیکیورٹی ، صوتی پیغام رسانی، مشکل مسائل کا حل ، گھر بیٹھے دنیا کی سیر،  کیا ہے جو حضرتِ والا کی دسترس میں نہیں۔۔یہ تو اپنی اپنی پسند ہے کون  دنیا چاہتا ہے کون آخرت، کون جنت کا انتخاب کرتا ہے کون دوزخ کے پتے پوچھتا ہے۔قبلہ نے ہر چیز ، ہرراز ، ہر مخفی  شے کھول کر سب کے سامنے رکھ دی ہے۔ سو نصیب اپنا اپنا ہے  کون  کس انواع کے ، لوازمات و موضوعات و مندرجات  کا  انتخاب  کرتا ہے،حضور کو  اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ حاجت مند ،حاجت روائی کےبعد  شکرگزاری  بجالاتا ہے یا نہیں، قبلہ اپنے فیض کو عام   کرنے ، سہل بنانے ، ہر ذی نفس تک پہنچانے  کی تپسیا میں  ہیں۔ یہ مختصر سا تعارف تو حضور کی قابلیتوں ، صلاحیتوں  ، عنایتوں اور نوازشوں کے آگے ایسے ہی ہے جیسے سورج کے سامنے چراغ،  لیکن بندہ ناقص، حضور کی شان کے مطابق  ان کا تعارف پیش کرنے سے خود کو عاجز پاتا ہے،   کم علمی  کا اعتراف کرتا ہے اور آستانہ عالیہ گوگلیہ کا دم بھرتا ہے۔ اور  انٹرنیٹ  کے شہنشاہ،   سرچ انجنوں کے عالم پناہ، معلومات کے منبع  ،جنہیں دنیا   گوگل سرکار کے نام سے جانتی ہے۔  ان کے دستِ نیٹ پر بیعت   کےلئے   سرِ تسلیم خم کرتا ہے۔