یہ ہے قائد کا پاکستان !
جاپان کا سونامی ۔۔۔لیبیا پر عالمی برادری کے حملے ۔ الطاف حسین کا بیان۔۔لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کےمارے عوام۔۔۔قتل ڈاکےاور ریمنڈکی رہائی پر عوام کی دہائی۔۔انقلاب کی باتیں انقلاب کے نعرے ۔۔۔سیاسی گرماگرمی اوردہشت گردی کیخلاف جنگ کی خبریں ۔۔۔۔۔۔سب کچھ پیچھے رہ گیا۔۔بہت پیچھے کیونکہ پاکستان آسڑیلیاسے میچ جو جیت گیا۔ قوم کاسڑکوں پر ۔۔۔۔۔۔جشن۔۔کیونکہ ۔یہ ہےقائد کا پاکستان۔۔۔ کرکٹ ہے اس کی جان
Monday, March 21, 2011
خبروں سے آگے
Saturday, November 20, 2010
اک ننھی پری کا اللہ کے نام خط
میں تیرے نام لیوا علی اصغر بنگلزئی کی دس سالہ بچی ہوں جس نے اپنے باپ کا چہرہ صرف تصویر میں دیکھا ہے میں اپنی ماں کی کوکھ سے ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی کہ میرے باپ اپنے دوست کے ساتھ بازار سے گھر آتے ہوئے لاپتہ ہوگئے۔ میری بوڑھی ماں ، بھائی، چچا سمیت گھر کے تمام افراد کو علم نہیں کہ میرا باپ کہاں گیا ہے؟ ماں سے جب بھی سوال کرتی ہوں تو جواب میں ماں کی آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں جنہیں پونچھتے ہوئے میں ہمیشہ ماں سے وعدہ کرتی ہوں کہ پھر کبھی نہیں پوچھوں گی کہ ابا کہاں ہیں۔۔۔؟ یا کب آئیں گے؟۔
اللہ میاں۔۔۔۔ میرے بڑے تایا ابو پیشے کے لحاظ سے درزی ہیں وہ بتاتے ہیں کہ میرے ابو بھی درزی تھے لیکن ان کے ہاتھ کے سلے کپڑے میرے نصیب میں نہیں
تایا ابو سے جب پوچھتی ہوں کہ ابا کہاں ہیں اورکب آئیں گے۔۔۔۔؟ تو اپنی آنکھوں کے آنسوؤں پر ضبط کرتے ہوئے غصے سے بولتے ہیں کہ مجھے کپڑے سینے آتے ہیں اگر ہونٹ سینے کا ہنر جانتا تو میں تم سب کے ہونٹ سی دیتا تاکہ پھرکوئی یہ پوچھ کر میرے زخم تازہ نہ کرتا۔
اللہ میاں!میرے گھر والوں نے ابا کو کہاں کہاں تلاش نہیں کیا انصاف کیلئے ہر دروازے پر دستک دی میرے بڑے بھائی نے انصاف کے اداروں تک جا جا کر اپنی جوتیاں گھسا دیں اس نے ہمارے بہتر مستقبل کیلئے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی لیکن میں اچھی تعلیم نہیں ابا کا پیار مانگتی ہوں ابا کا جرم کیا ہے کسی کو کچھ علم نہیں لیکن سزا ہم سب بھگت رہے ہیں میرے گھر کی دیوار پر انگور کی لپٹی بیل کی طرح غموں نے ہماری زندگی کو جکڑ رکھا ہے ہماری کوئی نہیں سنتا اس لئے میں آپ کو چٹھی لکھ رہی ہوں شاید آپ میرے اباکو واپس لاسکو کیوں کہ میں اتنا جانتی ہوں کہ آپ کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا کوئی بھی کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔
فقط آپ کی رحمت کی طلب گار
زرجان
بنت علی اصغر بنگلزئی
سریاب روڈ کوئٹہ بلوچستان
Monday, October 4, 2010
چیف صاحب یا چیپ صاب

یا۔یہ پتہ نہیں کہ یہ شاہین برطانوی ہےیا امریکی۔۔پارٹی بنالی تو پھر خطاب عالی شان کا خیال بھی آیا۔ پہلے تو سرکارکی طاقت سے جلسے کے پنڈال بھر جاتے تھے۔۔لیکن اب موصوف کو بہت اچھی طرح پتہ ہے کہ عوامی تو ہیں نہیں۔ اس رش لگانے کےلئے انہوں نے سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی استعمال کی۔ یہ سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی وہی ہے۔ جو ہمارے سٹیج آرٹسٹ۔۔لوگوں کو اکٹھا کرنے کےلئے استعمال کرتے ہیں ۔اورپھر اکٹھے ہوئے لوگوں کو بٹھائے رکھنے کے لئے بونگیاں مارتے ہیں۔ جسے چیپ آف دی آرٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ سوکل کے چیف صاحب نے اسی چیپ آف دی آرٹ سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا ۔اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے دشمنی کا حق اداکرتے ہوئےپاکستانی سیاست میں پھر آگ لگانے کی کوشش کی۔سیاست کے نومولود نے اس تیلی کو جلانے کی کوشش تو بہت کی لیکن یہ پھُس ہی ہوگئی۔ ذاتیات پر حملے سے موصوف نے شہرت کیا کمانی تھی الٹی منہ کی کھانی پڑی۔ مسلم لیگ برادران نے جو کہنا تھا سو کہا۔ دوسروں نے بھی کم نہ کی۔ کہیں سے چلے ہوئے کارتوس کا خطاب ملا تو کہیں مردے گھوڑے اور بگوڑے کا ۔۔لیکن گونگے کی رمز کو گونگا ہی جانے ۔۔۔شیخ رشیدصاحب اپنے سابقہ باس کی ذہنی حالت اور شرارت کو خوب سمجھتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ گھوڑا اور پھوڑا ہاتھ لگانے سے اورپھولتاہے۔ اسی لئے شیخ صاحب نے سیاست دانوں کو مشورہ دیاہے کہ وہ مشرف کومنہ لگائیں ۔منہ نہ لگاتو مشرف صاحب کی بیان بازیاں خود ہی بند ہوجائیں گی اور ورنہ اقتدارکے مزے لوٹنےوالے مشرف کے پاس اتنی کہانی تو ہیں کہ جسے سناکر وہ سیاست دانوں کی دکھتی رگ کو چھیڑتے رہیں۔Sunday, October 3, 2010
آپ مارن تے واہ جی واہ ۔۔دوجے مارن تے ہا۔ہائے۔

وزیراعظم قصوروار ہیں یاصدر۔نظام متاثرہوگا یا ملک ۔۔کوئی پرواہ نہیں۔ جو انصاف والا ہوگا وہی فیصلہ ہوگا۔ لیکن جب بات ان پیاروں پر آجائے تو ہرکسی کو عدلیہ کےکانے ہونےکا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ وکیل صاحبان چاہیں تو عدالت پرحملہ کرکے اس کے شیشے توڑیں یا پھر ججوں کوعدالت سے نکالیں ۔شہری کو پیٹیں یاپولیس والے کو ۔۔انصاف کرنےوالی آنکھ کانی ہوجاتی ہے۔ اوراس کانی آنکھ کو منظرمیں قصوروار کوئی اور ہی
نظر آتاہے۔عدالت میں پیشی ہوتو عام شہری کی جان تو ویسے ہی نکلی ہوتی ہے۔ افسر پولیس کا ہویا کسے اور محکمے کا ۔عدالت میں جاتے ہوئے اس کی بھی ٹانگیں ہی نہیں کانپتی ۔ہاتھ بھی کپکپاتے ہیں۔ اورالفاظ بھی حافظے سے محو ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی اس چھوٹی سی انسان ساختہ بڑی عدالت میں کوئی اونچا نہیں بول سکتا کہ کہیں توہین عدالت نہ ہوجائے۔ لیکن کالے کوٹ والے عدلیہ کے دل بھاتے ان قانونی بابوؤں کےکیا کہنے ۔۔انہیں جو جج پسند نہ آئے۔ یا جو عدالت بات نہ مانے ۔۔یہ اس عدالت کی اینٹ سے بھی اینٹ بجا دیتے ہیں۔ کھری کھری سنا دیتے ہیں۔ ججوں کی دوڑیں لگوادیتے ہیں۔ سیاستدان،پولیس اور عام شہری کس کھیت کی مولی ہیں۔اب انہوں نے عدلیہ سے پھڈا لیاہے۔ جس نے ان کا احسان اتارنے کی پوری کوشش کی ہے۔لیکن یہ قانونی بابو ۔ھل من مزید ،ھل من مزید کرتے عدلیہ کے لئے عربی کا اونٹ بن چکے ہیں۔ جس نے قدم پھیلاتے ہوئے اب ججوں کو عدالت سے باہر دھکیلناشروع کردیا ہے۔اور میرٹ میرٹ کی گردان کرنے والی عدلیہ کو ان کے معاملے میں بھی میرٹ کی عینک لگا کر ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ ناسور کی طرح اسے وہ بیماری لگائیں گے جو اس کی کوکھ کو بانجھ پن کا تحفہ دے گی۔ اورانصاف کی پیدائش خواب بن کےرہ جائے گی۔Friday, July 9, 2010
زندگی
یہ کس کی نظر لگی میرے چمن کو
یہ کون سے امن کےداعی آگئے
خون میں نہایا ہےہرگل
گم صم بیٹھےہیں بلبل
جہاں کبھی امن کےقہقہےگونجاکرتے تھے
آگ لگی ہے اسی نشیمن کو
جو کبھی روشنیوں کے شہرکہلاتے تھے
آج وہی اندھیرےمیں ڈوبےہیں
عجب خوف ہے
اداسی ہے
اورہےمایوسی
زندگی کبھی ایسے تو نہ تھی
زندگی کبھی ایسے تو نہ تھی
Monday, May 17, 2010
دل کےارماں آنسوؤں ۔۔۔۔۔
پاکستانی کرکٹ کے شہزادے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں حیران کن بڑاسکورکرکےبھی ہار گئے۔سیمی فائنل والی پرفارمنس اگر ٹورنامنٹ کے شروع میں ہوتی ۔توشایدنتیجہ کچھ مختلف ہوتا۔ قوم کی دعائیں سیمی فائنل تک لے آئیں۔ اگر قوم کی دعاؤں سے ہی کامیابی حاصل کرنی ہے۔ تو پھر ٹیم کے متبادل ایک دعائیہ ٹیم بھی بنا لینی چاہیے۔ جب جب ٹیم میچ کھیلے ۔دعائیہ ٹیم بھی مصلے اور تسبیح پکڑکراپنی اننگ شروع کردے۔ ٹی ٹوئنٹی میچوں پر نظر ڈالیں تو ڈھونڈے سے بھی کارکردگی نام کی چیز نہیں نظر آتی۔ شروع کے میچوں میں ہمارے ہیروز ایسےدکھائی دیئے۔جیسے اناڑی بننےچلے ہوں کھلاڑی۔رخصتی سے پہلے ٹیم کی تعریفوں کے پل باندھے گئے۔ لیکن یہ پل ناقص کارکردگی کےپہاڑ کے سامنے رائی کےدانے سے بھی بہت چھوٹے نظرآئے۔ٹیم ہاری ،قوم دکھی ہوئی۔بہت سوں نے آنسو بہائے۔۔۔ ان کی جانے بلا۔زیروبنےان ہیروزنےتو ہارکےبھی لاکھوں کمالئے۔ایکشن مارنے میں الہڑ مٹیار سے بھی دوہاتھ آگے۔کھیل کے میدان میں یہ ہیرو ٹینشن میں ہی نظر آئے۔کسی سے کیچ چھوٹا ۔کسی کو بیٹنگ مشکل لگی۔ اورکوئی کسی کے خیال میں گیند کےپیچھے بھاگتے بھاگتے باؤنڈری سے بھی پرے نکل گیا۔کوئی ٹی ٹوئنٹی کو ٹیسٹ میچ سمجھ کر کھیلتارہا۔ اورکوئی وینا ملک کےخیال میں گم مخالفوں سے درگت بنواتا رہا۔
کس کس کی بات کریں ۔سب سےاوپرہیں قومی کپتان ۔جن کی ہےاونچی دکان اورپھیکاپکوان۔ویسے توبوم بوم آفریدی ہیں۔لیکن اصل میں گھوم گھوم آفریدی ہیں۔رنزبناتےہوئےہمیشہ گھوم جاتےہیں۔کھیلنےسےزیادہ انہیں پویلین میں واپسی کی جلدی ہوتی ہے۔لیکن ان جیسا خوش قسمت کرکٹر پاکستان کی تاریخ میں پیدا ہی نہیں ہو ا ، کچھ کریں نہ کریں ۔شائقین کی ان سےامیدیں ہمیشہ حیران کن حد تک بلندیوں پر ہوتی ہیں۔ماضی بعید کی بات ہے کبھی چھکے چوکےلگانے میں ماہرتھے۔ اب تو بس دوسروں کےہاتھ میں کیچ پکڑانےکے ماہر ہیں۔یا پھر سیب کی طرح گیندچبانے کے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں صرف دو چھکےلگاسکے۔کبھی ایک میچ میں صرف سینتیس گیندوں پر سنچری بنائی تھی ۔ اب چھ میچ کھیل کر بھی سنچری نہ بناپائے۔موصوف کو باؤلنگ کاشوق بھی ہے۔ لیکن باؤلنگ توبیٹنگ سے بھی بری رہی۔کل چوبیس اوورز کرائےاور ایک سو بیاسی رنز دے کر چار وکٹیں لیں۔کہتے ہیں سینیئرز نے مایوس کیا۔ خودکوشایداب بھی بچہ سمجھتےہیں۔اور بچوں سے تو غلطیاں ہوہی جاتی ہیں۔
ٹیم کی بات کریں اورسب سے تجربہ کار اور منجھے ہوئے بیٹسمین کی بات نہ کریں۔۔جی ہاں ٹھیک سمجھے ۔یہ ہیں مصباح الحق ۔۔جن کی کارکردگی دیکھ کرتو دل کی بھی بند ہوگئی تھی دھک دھک۔۔اوریہی آواز آتی تھی کہ یہ کیا ہے بک بک۔دورہ آسٹریلیا کے بعد ڈراپ ہوئے تو ڈومیسٹک میں جارحانہ بلے بازی سے واپس ٹیم میں آ گئے ۔لیکن لگتاہےجیسےیہ جارحیت صرف ٹیم میں واپسی کےلئےتھی۔ٹی ٹوئنٹی کوٹیسٹ میچ سمجھ کرہی کھیلتےرہے۔ان کی منجھی ہوئی بیٹنگ دیکھ کر تو یہی کہنا پڑا بیٹنگ چھوڑیں ۔برتن مانجیں۔آج تک ریورس سویپ کے سحر سے باہر ہی نہیں نکل سکے۔لگتا ہےیہ ریورس سویپ ان کے کیریئرکو ریورس کرکے ہی رکے گا۔یہ ہیں آل راؤنڈر محمد حفیظ ۔انہیں شعیب ملک کا متبادل قرار دیا گیا۔لیکن میگا ایونٹ میں وہ آل نکال کر صرف راؤنڈر ہی دکھائی دیئے۔ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی منہ زوری میگا ایونٹ میں ہوگئی کمزوری۔وہ بولر دکھائی دیئے اور نہ بیٹسمن ۔چار میچوں میں صرف انتالیس رنز بنائے ۔چھ میچوں میں چودہ اوور کئے۔رنز کھائے ۔ایک سو تئیس ۔اور وکٹیں کتنی لیں صرف دووہ بھی غلطی سے جناب کا اپنا کوئی ارادہ نہ تھا ۔۔
ارے اپنے چاکلیٹی ہیرو کو ہم بھول ہی گئے تھے۔جی ہاں وہی محمد آصف۔وینا ملک والے۔نمبر ون ہیں اسی لئے ایک ہی میچ کھیلا۔لیکن اس میں بھی ویناملک سےجھگڑےکی گتھیاںسلجھاتےرہے۔اورانگلش بلے بازان کی درگت بناتےرہے۔چار
اوورز میں۔۔تینتالیس رنزدیئے۔اورچونگے میں ایک وکٹ بھی نہیں ملی۔زمین کےان ستاروں میں سعید اجمل کا ذکرنہ ہوممکن نہیں۔چھ میچوں میں گیارہ وکٹیں لےکرشاندارکارکردگی دکھائی۔لیکن دشمنوں کو یہ عزت ایک آنکھ نہ بھائی ۔شاید کسی کی بدعا ہی لگی ۔ٹورنامنٹ میں کمائی عزت آخری میچ میں خاک میں مل گئی۔ قوم کے ساتھ ان کو بھی یہ آخری اوور ہمیشہ یاد رہے گا۔ بےچارے سعیداجمل ۔۔ آخرمیں اتنی دیراوورنہیں کروایا۔جتنی دیر بیٹھ کےآنسوبہائے ۔ہائے ٹی ٹوئنٹی ہائےٹی ٹوئنٹی۔ ہائے
Sunday, April 25, 2010
میڈیاکی بادشاہ گری۔۔ واہ واہ ۔۔۔۔یاانےواہ
آج ایم کیوایم نےپنجاب کےتین شہروں میں پنجاب کنونشن کرکے یہ بتادیا کہ انہوں نےپنجاب کےسیاسی میدان میں اپنے قدم رکھ دیئےہیں۔ پنجاب میں ان کےقدم پکے ہونے کا تو پتہ نہیں۔ لیکن آج کے دن یہ بات ضرور ثابت ہوگئی پاکستان کے میڈیا میں ایم کیوایم کے قدم ضرور پکے ہیں۔ آج پاکستانی میڈیا نے یہ ثابت کردیا ۔ صحافی نہ بکنے والے ہیں نہ ڈرنے والے۔۔۔حق سچ کے علم بردار ہیں۔ ہمیشہ حق پرستوں کاساتھ دیں گے۔دوسرے کہیں نہ کہیں ۔۔ایم کیوایم والے تو خود کو حق پرست کہتے ہیں۔اس لئے قلم کے یہ سپاہی اسی کے ساتھ ہیں۔ لوگ پی ٹی وی کا خبرنامہ اس لئے نہیں دیکھتے کہ اس پرخبریں کم ہوتی ہیں ۔۔صدر اور وزیراعظم زیادہ۔۔لیکن آج کے دن پرائیویٹ نیوز چینلز نے پی ٹی وی کوبھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ہر چینل کا اپنا ایک نعرہ ہے۔ کوئی ہرخبر پر نظر رکھتا ہے۔ کوئی ہروقت، بروقت ہے۔ کوئی جان کے جیو کا شورمچاتا ہے۔ کسی کو دنیا کی خبر ہے۔ لیکن آج کے دن ہر چینل کا ایک ہی منظر تھا۔ ہر چینل کی ایک ہی خبر پر نظر تھی۔ ہرکوئی ایک ہی بات بتانا چاہتا تھا۔ دنیا کی خبریں چھوڑ کر ایک ہی منظر دکھاناچاہتا تھا ۔ایک ہی منظرتھا۔ہرسکرین پرایم کیوایم کےپنجاب کنونشن کامنظر۔پاکستان کے عوام حیران تھے ،پریشان تھے ۔۔سیاسی جماعتوں کے کنونشن۔ان کےلئے کوئی نئی بات نہیں۔ ہاں اگران کےلئے کوئی نئی بات تھی تو وہ اس کنونشن کی میڈیا کوریج تھی ۔معاملہ خبروں کا ہوتوٹی وی چینل ناظرین کھوناپسند کرتے ہیں لیکن اشتہارنہیں۔۔لیکن اس کےلئے تو انہوں نے اشتہاروں کی پرواہ کی نہ ناظرین کی۔انہیں کس چیز کی پرواہ تھی۔وہی بہترجانتےہیں۔۔قائدتحریک کا خطاب تو سنانا ہی تھا۔ سٹیج بننے سے لیکر سٹیج ختم ہونے تک کے منظر دیکھ لوگوں کی حیرانگی لازمی امرتھا۔اس منظرکودیکھ کر کسی اور نے کچھ کہاہو یانہ ۔۔میں تو یہ یہی کہتا ہوں۔میڈیا باجماعت ہوچکا ہے۔ایم کیوایم کی رکنیت سے فیض یاب ہوچکاہے۔


