Sunday, April 17, 2016
عمران خان کو معافی مانگنا ہوگی
Wednesday, April 13, 2016
ارفع کریم
Monday, April 4, 2016
ایسی بیماری جس کا علاج صرف چھتر
Sunday, February 19, 2012
ایم کیوایم کا بااختیار خواتین ۔۔۔مضبوط پاکستان جلسہ
جئے ایم کیوایم۔۔۔تجھ میں تو ہے بڑا دم۔۔۔ ایک بار پھر چلا دیا بم۔۔۔بااختیارخواتین۔۔۔مضبوط پاکستان۔۔ کاکراچی میں سجا کر میدان۔۔۔۔ارے یہ جلسہ کئی عام جلسہ تھوڑی تھا۔۔وجود زن سےہے تصویر کائنات میں رنگ والےسارے رنگ یہاں بکھرے ۔۔ہرسو بکھرے۔۔اور کیا خوب بکھرے۔۔ان بکھرے رنگوں کو دیکھ کر یہ جلسہ سیاسی طاقت کا مظاہرہ کم ۔۔۔اور انٹرٹینمنٹ شو زیادہ لگا۔۔۔۔واہ الطاف بھائی دل خوش کردیا آپ۔۔بس تھوڑی سی قیامت ہی تو ڈھائی ۔۔اپنی پاٹ دار آواز میں خطابِ ظلم نشان کرکے۔۔جب بھائی کا خطاب چل رہاتھا۔۔۔اُس وقت تو ایسا لگ رہا تھا۔۔۔ جیسے سب کو سانپ ہی سونگھ گیا ہو۔۔۔یا سکتے کا حملہ ہوا ہو۔۔۔ارے جناب آپ کہیں غلطی سے بھائی کو سانپ نہ سمجھیں گا۔۔وہ توسات سمندر پار بیٹھے ہیں۔۔۔قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار بیٹھے ہیں۔یا لوگوں کو یوں لگا جیسے ان کےسروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۔جو ذرا سی جنبش سے اڑجائیں گے ۔۔اور جس کا پرندہ اڑا۔۔پھربھائی کے چاہنےوالے اس کے بھیجا اڑا دیں گے۔اس بات کو چھوڑیں ۔۔لیکن یہ بات تو واقعی ماننا پڑے گی کہ جلسے میں خواتین کی شرکت نے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔۔ٹوٹتے بھی کیوں ناں ۔۔۔ کوئی بھی خاتون اپنے باپ بیٹے بھائی کی ہڈیاں ٹوٹتے تھوڑی دیکھنا چاہتی ہے ۔۔۔کیونکہ الطاف بھائی کہیں نہ کہیں ۔۔۔ان کا یہ خفیہ اعلان تو سب تک ہی پہنچ چکا تھا کہ جلسے کی کامیابی کیلئے کوئی گھرمیں نہیں رہے گا۔۔جورہا۔۔پھر اس کا گھر نہیں رہےگا۔۔جلسے میں جب الطاف بھائی الطاف بھائی کے نعرے گونجے ۔۔۔تونہ جانے کیوں مجھے ٹرک کے پیچھے لکھا یہ فقرہ رہ رہ کر یاد آیا کہ پاس کر یا برداشت ۔۔لیکن ٹی وی ریموٹ سنبھالے بندہ بھی کیا کرتا۔۔پاکستانی میڈیا پر تو جدھر دیکھتا ہوں تُو ہی تُو کا منظر تھا۔وہ توشکر ہے ہرآغاز کا انجام بھی ہوتا ہے۔۔۔اسی لئے جب بھائی کاتقریرنما بے سُرا راگ ختم ہوا تو پھرآئی سروں کی بہار۔۔بلکہ یوں کہیئے رقص و سرور پر نکھار۔۔لیکن کیا کریں پاکستانی بھی بڑے ظالم ہیں۔۔پورا کنجڑ خانہ معاف کیجئےگا جلسے کےبعد خواتین کا جشن آخر تک دیکھا اور اف تک نہ کی۔۔۔لیکن بعدمین عادت سے مجبورانگلیاں اٹھانے لگے کہ کیا بھائی یہی ہے وہ اختیار۔۔۔جو آپ خواتین کو دینا چاہتے ہیں۔اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر محب وطن پاکستانیوں کاجواب ناں ہی سمجھیں۔
Monday, March 21, 2011
خبروں سے آگے
یہ ہے قائد کا پاکستان !
جاپان کا سونامی ۔۔۔لیبیا پر عالمی برادری کے حملے ۔ الطاف حسین کا بیان۔۔لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کےمارے عوام۔۔۔قتل ڈاکےاور ریمنڈکی رہائی پر عوام کی دہائی۔۔انقلاب کی باتیں انقلاب کے نعرے ۔۔۔سیاسی گرماگرمی اوردہشت گردی کیخلاف جنگ کی خبریں ۔۔۔۔۔۔سب کچھ پیچھے رہ گیا۔۔بہت پیچھے کیونکہ پاکستان آسڑیلیاسے میچ جو جیت گیا۔ قوم کاسڑکوں پر ۔۔۔۔۔۔جشن۔۔کیونکہ ۔یہ ہےقائد کا پاکستان۔۔۔ کرکٹ ہے اس کی جان
Saturday, November 20, 2010
اک ننھی پری کا اللہ کے نام خط
میں تیرے نام لیوا علی اصغر بنگلزئی کی دس سالہ بچی ہوں جس نے اپنے باپ کا چہرہ صرف تصویر میں دیکھا ہے میں اپنی ماں کی کوکھ سے ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی کہ میرے باپ اپنے دوست کے ساتھ بازار سے گھر آتے ہوئے لاپتہ ہوگئے۔ میری بوڑھی ماں ، بھائی، چچا سمیت گھر کے تمام افراد کو علم نہیں کہ میرا باپ کہاں گیا ہے؟ ماں سے جب بھی سوال کرتی ہوں تو جواب میں ماں کی آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں جنہیں پونچھتے ہوئے میں ہمیشہ ماں سے وعدہ کرتی ہوں کہ پھر کبھی نہیں پوچھوں گی کہ ابا کہاں ہیں۔۔۔؟ یا کب آئیں گے؟۔
اللہ میاں۔۔۔۔ میرے بڑے تایا ابو پیشے کے لحاظ سے درزی ہیں وہ بتاتے ہیں کہ میرے ابو بھی درزی تھے لیکن ان کے ہاتھ کے سلے کپڑے میرے نصیب میں نہیں
تایا ابو سے جب پوچھتی ہوں کہ ابا کہاں ہیں اورکب آئیں گے۔۔۔۔؟ تو اپنی آنکھوں کے آنسوؤں پر ضبط کرتے ہوئے غصے سے بولتے ہیں کہ مجھے کپڑے سینے آتے ہیں اگر ہونٹ سینے کا ہنر جانتا تو میں تم سب کے ہونٹ سی دیتا تاکہ پھرکوئی یہ پوچھ کر میرے زخم تازہ نہ کرتا۔
اللہ میاں!میرے گھر والوں نے ابا کو کہاں کہاں تلاش نہیں کیا انصاف کیلئے ہر دروازے پر دستک دی میرے بڑے بھائی نے انصاف کے اداروں تک جا جا کر اپنی جوتیاں گھسا دیں اس نے ہمارے بہتر مستقبل کیلئے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی لیکن میں اچھی تعلیم نہیں ابا کا پیار مانگتی ہوں ابا کا جرم کیا ہے کسی کو کچھ علم نہیں لیکن سزا ہم سب بھگت رہے ہیں میرے گھر کی دیوار پر انگور کی لپٹی بیل کی طرح غموں نے ہماری زندگی کو جکڑ رکھا ہے ہماری کوئی نہیں سنتا اس لئے میں آپ کو چٹھی لکھ رہی ہوں شاید آپ میرے اباکو واپس لاسکو کیوں کہ میں اتنا جانتی ہوں کہ آپ کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا کوئی بھی کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔
فقط آپ کی رحمت کی طلب گار
زرجان
بنت علی اصغر بنگلزئی
سریاب روڈ کوئٹہ بلوچستان